SHAWORDS
Zubair Rizvi

Zubair Rizvi

Zubair Rizvi

Zubair Rizvi

poet
32Shayari
35Ghazal

Popular Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 35
غزل · Ghazal

کبھی خرد سے کبھی دل سے دوستی کر لی نہ پوچھ کیسے بسر ہم نے زندگی کر لی اندھیری رات کا منظر بھی خوب تھا لیکن تم آ گئے تو چراغوں میں روشنی کر لی تمہارا جسم ہے جاڑوں کا سرد سناٹا حرارتوں سے کہاں تم نے دوستی کر لی حضور دوست عجب حادثہ ہوا یارو ہر ایک حرف شکایت نے خودکشی کر لی لیے پھرے ہیں بہت تم کو دل کی گلیوں میں اس ایک بات پہ دنیا نے دشمنی کر لی ہر ایک موڑ پہ خنجر بکف تھی تنہائی غریب شہر نے گھبرا کے خودکشی کر لی

kabhi khirad se kabhi dil se dosti kar li

غزل · Ghazal

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے جن کی دیوار ہی اچھی تھی نہ در اچھے تھے ان کی جنت میں رہے ہم تو یہ احساس ہوا اپنے ویرانوں میں ہم خاک بسر اچھے تھے بند تھی ہم پہ وہی راہ گلستاں کہ جہاں سایہ کرتے ہوئے دو رویہ شجر اچھے تھے عمر کی اندھی گپھاؤں کا سفر لمبا تھا وہ تو کہئے کہ رفیقان سفر اچھے تھے کہیں صحرا کہیں جنگل تو کہیں دریا تھے میرے حصے کی زمیں تیرے سفر اچھے تھے سیر دنیا سے جو لوٹے تو یہ جانا ہم نے شہر غالبؔ ترے خوبان نظر اچھے تھے

zindagi aise gharon se to khanDar achchhe the

غزل · Ghazal

دونوں ہم پیشہ تھے دونوں ہی میں یارانہ تھا قاتل شہر سے پر ربط رقیبانہ تھا وہ کھلے جسم پھرا شہر کے بازاروں میں لوگ کہتے ہیں یہ اقدام دلیرانہ تھا بند مٹھی میں مری راکھ تھی تعبیروں کی اس کی آنکھوں میں بھی اک خواب مریضانہ تھا لغزش پا بھی ہر اک گام تھی سایہ سایہ زندگی تجھ سے تعلق بھی شریفانہ تھا تم جہاں اپنی مسافت کے نشاں چھوڑ گئے وہ گزر گاہ مری ذات کا ویرانہ تھا سنتے ہیں اپنی ہی تلوار اسے کاٹ گئی دوستو ہم میں جو اک شخص حریفانہ تھا

donon ham-pesha the donon hi mein yaaraana thaa

غزل · Ghazal

قصیدے لے کے سارے شوکت دربار تک آئے ہمیں دو چار تھے جو حلقۂ انکار تک آئے وہ تپتی دھوپ سے جب سایۂ دیوار تک آئے تو جاتی دھوپ کے منظر لب اظہار تک آئے وہ جس کو دیکھنے اک بھیڑ امڈی تھی سر مقتل اسی کی دید کو ہم بھی ستون دار تک آئے طرب زادوں کی راتیں حسن سے آباد رہتی تھیں سخن زادے تو بس ذکر لب و رخسار تک آئے زمیں کے ہاتھ پر ہے آسماں یہ کیا مقام آیا یہ کس امکاں بھری دنیا کے ہم آثار تک آئے انا کے گنبدوں میں جن کا فن گونجا کیا برسوں ہنر ان کے بھی بکنے رونق بازار تک آئے

qaside le ke saare shaukat-e-darbaar tak aae

غزل · Ghazal

طلسم حرف و حکایت اسے بھی لے ڈوبا زباں سے اس کی ہر اک بات اک فسانہ لگے وہ جس کو دور سے دیکھا تھا اجنبی کی طرح کچھ اس ادا سے ملا ہے کہ دوستانہ لگے ادھر ادھر سے مقابل کو یوں نہ گھائل کر وہ سنگ پھینک کہ بے ساختہ نشانہ لگے یہ لمحہ لمحہ تکلف کے ٹوٹتے رشتے نہ اتنے پاس مرے آ کہ تو پرانا لگے وہ ایک شخص جو لیٹا ہے ریگ ساحل پر اسے نہ موجۂ طوفاں کا تازیانہ لگے

tilism-e-harf-o-hikaayat use bhi le Duubaa

غزل · Ghazal

ہے دھوپ کبھی سایہ شعلہ ہے کبھی شبنم لگتا ہے مجھے تم سا دل کا تو ہر اک موسم بیتے ہوئے لمحوں کی خوشبو ہے مرے گھر میں بک ریک پہ رکھے ہیں یادوں کے کئی البم کمرے میں پڑے تنہا اعصاب کو کیوں توڑو نکلو تو ذرا باہر دیتا ہے صدا موسم کس درجہ مشابہ ہو تم میرؔ کی غزلوں سے لہجے کی وہی نرمی باتوں کا وہی عالم ساحل کا سکوں تم لو میں موج خطر لے لوں یوں وقت کے دریا کو تقسیم کریں باہم

hai dhuup kabhi saaya shoala hai kabhi shabnam

Similar Poets