SHAWORDS
Azeem Murtaza

Azeem Murtaza

Azeem Murtaza

Azeem Murtaza

poet
17Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

17 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

کچھ بھی ہو مرا حال نمایاں تو نہیں ہے دل چاک سہی خیر گریباں تو نہیں ہے حسن طلب برق ہے تعمیر نشیمن ورنہ ہوس سیر گلستاں تو نہیں ہے کچھ نقش تری یاد کے باقی ہیں ابھی تک دل بے سر و ساماں سہی ویراں تو نہیں ہے ہم درد کے مارے ہی گراں جاں ہیں وگرنہ جینا تری فرقت میں کچھ آساں تو نہیں ہے ٹوٹا تو عزیز اور ہوا اہل وفا کو دل بھی کہیں اس شوخ کا پیماں تو نہیں ہے

kuchh bhi ho miraa haal numaayaan to nahin hai

غزل · Ghazal

وہی یکسانیت شام و سحر ہے کہ جو تھی زندگی دست بہ دل خاک بسر ہے کہ جو تھی دیکھ کر بھی ترے جلوے نہیں دیکھے جاتے وہی پابندیٔ آداب نظر ہے کہ جو تھی تجھ سے مل کر بھی غم ہجر کی تلخی نہ مٹی ایک حسرت سی یہ انداز دگر ہے کہ جو تھی شعلۂ درد بجھے دیر ہوئی ہے لیکن وہی تابندگیٔ دیدۂ تر ہے کہ جو تھی تو مری جان نہیں اب مگر اے جان عظیمؔ زندگی اب بھی تری دست نگر ہے کہ جو تھی

vahi yaksaaniyat-e-shaam-o-sahar hai ki jo thi

غزل · Ghazal

کچھ نقش تری یاد کے باقی ہیں ابھی تک دل بے سر و ساماں سہی ویراں تو نہیں ہے ہم درد کے مارے ہی گراں جاں ہیں وگرنہ جینا تری فرقت میں کچھ آساں تو نہیں ہے ٹوٹا تو عزیز اور ہوا اہل وفا کو دل بھی کہیں اس شوخ کا پیماں تو نہیں ہے

kuchh naqsh tiri yaad ke baaqi hain abhi tak

غزل · Ghazal

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہے بہار صبح ازل پھر گئی نگاہوں میں وہی فضا ترے کوچہ کے آس پاس بھی ہے جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے خلوص نیت رہ رو پہ منحصر ہے عظیمؔ مقام عشق بہت دور بھی ہے پاس بھی ہے

tiraa khayaal bhi hai vaz-e-gham kaa paas bhi hai

غزل · Ghazal

جب سے ہے وہ رونق محفل آنکھوں میں جان لبوں پر رہتی ہے دل آنکھوں میں سوکھ رہی ہے جوئے‌ گریۂ گرد نشاں چبھنے لگی ہے اب خاک دل آنکھوں میں ہجر کی راتیں عرصۂ بے خوابی کا سفر کاٹ رہا ہوں منزل منزل آنکھوں میں خون کی لہریں موتی موتی پلکوں پر نکلا دل دریا کا ساحل آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں گزرے وقت کی تصویریں اترے ہیں یادوں کے محمل آنکھوں میں

jab se hai vo raunaq-e-mahfil aankhon mein

غزل · Ghazal

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن دھوپ سی پھیل رہی ہے سر‌ دیوار چمن یا ترے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخر شب بھیگا بھیگا ہے نسیم سحری کا دامن آج تک یاد ہے وہ شام جدائی کا سماں تیری آواز کی لرزش ترے لہجے کی تھکن دل کے زخموں سے مہک آتی ہے پھولوں کی عظیمؔ سینۂ چاک ہے یا رخنۂ دیوار چمن

nim-shab aatish-e-fariyaad-e-asiraan raushan

Similar Poets