SHAWORDS
Ghulam Rabbani Taban

Ghulam Rabbani Taban

Ghulam Rabbani Taban

Ghulam Rabbani Taban

poet
23Shayari
37Ghazal

Popular Shayari

23 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

تمہیں بتاؤ پکارا ہے بار بار کسے عزیز کہتے ہیں غم ہائے روزگار کسے سکوت راز کہو یا سکوت مجبوری مگر لبوں کی جسارت تھی ناگوار کسے خزاں میں کس نے بہاروں کی دل کشی بھر دی دعائیں دیتا ہے دامن کا تار تار کسے کہاں وہ داغ کہ دل کا گماں کرے کوئی سمجھئے عہد تمنا کی یادگار کسے نسیم صبح کا غنچوں کو انتظار سہی ہوائے دشت ہوں میں میرا انتظار کسے شگفتگی کا اشارہ ہے پھول برسیں گے نہ جانے آج نوازے‌ گی شاخ دار کسے جراحتوں کے خزانے لٹا دیے تاباںؔ کیا ہے راہ کے کانٹوں نے اتنا پیار کسے

tumhin bataao pukaaraa hai baar baar kise

غزل · Ghazal

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے نگاہ شوق مبارک نشاط گل چینی رخ نگار پہ رنگ عتاب آیا ہے سزائے زہد شب ماہتاب کیا کم تھی کہ روز ابر بھی بن کے عذاب آیا ہے ضیائے حسن و فروغ حیا کی آمیزش شفق کی گود میں یا آفتاب آیا ہے تری نگاہ کی ہلکی سی ایک جنبش سے جہان شوق میں کیا انقلاب آیا ہے

kisi ke haath mein jaam-e-sharaab aayaa hai

غزل · Ghazal

سواد غم میں کہیں گوشۂ اماں نہ ملا ہم ایسے کھوئے کہ پھر تیرا آستاں نہ ملا غموں کی بزم کہ تنہائیوں کی محفل تھی ہمیں وہ دشمن تمکیں کہاں کہاں نہ ملا عجیب دور ستم ہے کہ دل کو مدت سے نوید غم نہ ملی مژدۂ زیاں نہ ملا کسے ہے یاد کہ سعی و طلب کی راہوں میں کہاں ملا ہمیں تیرا نشاں کہاں نہ ملا ادھر وفا کا گلا ہے کہ دل لہو نہ ہوا ادھر ستم کو شکایت کہ قدرداں نہ ملا لبوں کو نطق کا اعجاز تو ملا تاباںؔ مگر سکوت کا پیرایۂ بیاں نہ ملا

svaad-e-gham mein kahin gosha-e-amaan na milaa

غزل · Ghazal

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی تمام عمر غرض صرف جستجو ہوگی پھر آج دل سے مخاطب ہے شب کا سناٹا پھر آج صبح تلک ان کی گفتگو ہوگی جنوں کا شغل سلامت رفو کی فکر نہ کر کسے خبر ہے کہ کب فرصت رفو ہوگی ابھی جلیں گے یہاں اور بے رخی کے چراغ اس انجمن میں وفا اور سرخ رو ہوگی چلے گی بات جہاں تیری کج ادائی کی مری وفا بھی تو موضوع گفتگو ہوگی بچیں گے برق حوادث سے آشیاں کب تک کہ تیز تر ابھی تحریک رنگ و بو ہوگی ملیں گے راہ میں ایسے بھی ہم سفر تاباںؔ قدم قدم جنہیں منزل کی جستجو ہوگی

milegaa dard to darmaan ki aarzu hogi

غزل · Ghazal

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست ترا جمال ہے میری نظر نہیں اے دوست ترے بغیر وہ شام و سحر نہیں اے دوست کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں اے دوست بہانا ڈھونڈھ لیا تجھ سے بات کرنے کا کچھ اور مقصد عرض ہنر نہیں اے دوست شب فراق یہ محویتوں کا عالم ہے کسی کی ہائے کسی کو خبر نہیں اے دوست مہ و نجوم بھی گرم سفر تو ہیں لیکن کوئی بھی ان میں مرا ہم سفر نہیں اے دوست کبھی ادھر سے جو گزرے تو سرسری گزرے سواد طور تری رہ گزر نہیں اے دوست

vo raushni ki ba-qaid-e-sahar nahin ai dost

غزل · Ghazal

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت اس مہر و جفا کی نگری سے دل کے ہیں مگر رشتے بھی بہت اب کون بتائے وحشت میں کیا کھونا ہے کیا پایا ہے ہاتھوں کا ہوا شہرہ بھی بہت دامن نے سہے صدمے بھی بہت اک جہد و طلب کے راہی پر بے راہروی کی تہمت کیوں سمتوں کا فسوں جب ٹوٹ گیا آوارہ ہوئے رستے بھی بہت موسم کی ہوائیں گلشن میں جادو کا عمل کر جاتی ہیں روداد بہاراں کیا کہئے شبنم بھی بہت شعلے بھی بہت ہے یوں کہ طرب کے ساماں بھی ارزاں ہیں جنوں کی راہوں میں تلووں کے لیے چھالے بھی بہت چھالوں کے لیے کانٹے بھی بہت کہتے ہیں جسے جینے کا ہنر آسان بھی ہے دشوار بھی ہے خوابوں سے ملی تسکیں بھی بہت خوابوں کے اڑے پرزے بھی بہت رسوائی کہ شہرت کچھ جانو حرمت کہ ملامت کچھ سمجھو تاباںؔ ہوں کسی عنوان سہی ہوتے ہیں مرے چرچے بھی بہت

basti mein kami kis chiiz ki hai patthar bhi bahut shishe bhi bahut

Similar Poets