tiri yaad aai to kahti hain aankhein
ab aankhon se aansu bahaanaa paDegaa

Haider Allahabadi
Haider Allahabadi
Haider Allahabadi
Popular Shayari
20 totalchhat pe aai ho aaj barson baad
dekh kar chaand Dar na jaae kahin
koi bhi ru-baru nahin rahaa ab
meraa matlab hai tu nahin rahaa ab
apne bistar pe dam na toD dein ham
teri baaton ko yaad kar kar ke
tere jaane ke baad dekh zaraa
kitnaa barbaad ho gayaa huun main
apni is paak nigaahon se hamein dekho to
ham kahin aur nahin dil mein tire rahte hain
roz takte hain ek duuje ko
haan magar baat ham nahin karte
haar jaataa huun un ki baaton se
jin ki baaton se jiit jaataa thaa
ye zamaana hai jaan lo saahib
har qadam par tumhein daghaa degaa
ghar se main niklaa vuzu kar ke ibaadat ke liye
us ki khiDki khul gai aur phir ishaara ho gayaa
zamaana jitnaa bahkaae tumhaare saath rahnaa hai
tumhein ab kuchh bhi ho jaae tumhaare saath rahnaa hai
jab se tumhaare diid ki chaahat nikal gai
dil hai kahin dimaagh kahin aur nazar kahin
Ghazalغزل
جب تلک وہ گزر نہیں جاتے میرے سینے سے ڈر نہیں جاتے سب لٹاتے ہو اس کی خاطر تم کیوں محبت میں مر نہیں جاتے جس محلے میں ہوں منافق لوگ چاہ کر ہم ادھر نہیں جاتے تیری اک دید کے لئے کچھ لوگ رات بھر اپنے گھر نہیں جاتے کیسے کیسے یہ لوگ ہیں کہ جہاں ہے منافع مگر نہیں جاتے
jab talak vo guzar nahin jaate
اپنے غم خود ہی سنبھالو اب نہیں آؤں گا میں زخم سینے کے چھپا لو اب نہیں آؤں گا میں کیوں بلاتی ہو ہمیں کہتا ہوں تم کو بار بار جاؤ اک بستی بسا لو اب نہیں آؤں گا میں پھول سے اور روشنی سے گھر کو روشن کر کے تم چاہے گھر جنت بنا لو اب نہیں آؤں گا میں آخری موقعے پہ ہم نے خود ہی اس سے کہہ دیا تم کسی سے دل لگا لو اب نہیں آؤں گا میں
apne gham khud hi sambhaalo ab nahin aaungaa main
ہر گلی سے ہر اک جواں نکلے گر تری آنکھ مہرباں نکلے دل میں بس ایک بات رہتی ہے ہو ملاقات پھر یہ جاں نکلے چبھ رہا ہے جگر میں تیرا فراق تو جو آئے تو یہ سناں نکلے جتنی تیزی سے تم نکلتی ہو اتنی تیزی سے ہم کہاں نکلے بات نکلے جو اس کی اے حیدرؔ میری سانسو سے ہچکیاں نکلے
har gali se har ik javaan nikle
گھر کا پردہ اٹھا رہا ہوں میں اس کا مطلب کہ آ رہا ہوں میں شکریہ بول آ کے تو مجھ کو ناز تیرے اٹھا رہا ہوں میں آ بھی جاؤ کہ وقت مشکل ہے تم کو کب سے بلا رہا ہوں میں اپنی محفل میں کر کے ذکر ترا اپنے دل کو جلا رہا ہوں میں کیا کہوں تیرے سب خطوط کے ساتھ تیرا چہرہ بھلا رہا ہوں میں میرا گھر جس دیے سے جلتا تھا اس دیے کو بجھا رہا ہوں میں تم نے جو بھی دئے تھے خط مجھ کو آج وہ سب جلا رہا ہوں میں نام لکھا تھا جس کا ہاتھوں پر نام اس کا مٹا رہا ہوں میں میں نے لکھی ہے خون سے حیدرؔ شاعری جو سنا رہا ہوں میں
ghar kaa parda uThaa rahaa huun main
رہتا ہے جیسے چاند ستاروں کے درمیاں ایسے ہی میں کھڑا ہوں ہزاروں کے درمیاں دل کو سکون ملتا نہیں ہے ترے بنا اب زندگی ہے درد کے ماروں کے درمیاں کتنا حسین دکھنے میں لگتا ہے یہ گلاب رہتا ہے پھر بھی آج بھی خاروں کے درمیاں تنہا کبھی ہوا تو یہ دل نے مرے کہا چلتے ہیں آؤ ہم بھی مزاروں کے درمیاں تم کیوں تلاش کرتے ہو حیدرؔ کو میرے دوست وہ تو پھنسا ہوا ہے غباروں کے درمیاں
rahtaa hai jaise chaand sitaaron ke darmiyaan
اپنے لفظوں سے کسی دل کو دکھانے والا سوچتا کیوں نہیں مفلس کو ستانے والا بے خطا لوگوں کا یوں خون بہانے والا کیسا انسان ہے تو ظلم کمانے والا گر اسے چھوڑ کے جانا ہے تو اک بات سنو کیا کہے گا تجھے ہر شخص زمانے والا دیکھتا جب ہوں میں اس دہر کو تو کہتا ہوں کتنا قادر ہے یہ دنیا کو بنانے والا لے کے آیا ہے وہ آئینہ دکھانے کو ہمیں جس کا اک نام ہے آئینہ دکھانے والا مٹ گیا ہوگا مرا نام اگر ہاتھوں سے دل سے کس طرح مٹائے گا مٹانے والا ظلم کرنا ہے جسے کھل کے کرے وہ لیکن ایک دن روئے گا حیدرؔ کو رلانے والا
apne lafzon se kisi dil ko dukhaane vaalaa





