SHAWORDS
Hasan Abbasi

Hasan Abbasi

Hasan Abbasi

Hasan Abbasi

poet
10Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

رات دن پر شور ساحل جیسا منظر مجھ میں تھا تم سے پہلے موجزن کوئی سمندر مجھ میں تھا آج تیری یاد سے ٹکرا کے ٹکڑے ہو گیا وہ جو صدیوں سے لڑھکتا ایک پتھر مجھ میں تھا جیتے جی صحن مزار دوست تھا میرا وجود اک شکستہ سا پیالہ اور کبوتر مجھ میں تھا میں کہاں جاتا دکھانے اپنے اندر کا کمال جو کبھی مجھ پر نہ کھل پایا وہ جوہر مجھ میں تھا ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اس کو رات دن خود میں حسنؔ وہ جو کل تک مجھ سے بھی اک شخص بہتر مجھ میں تھا

raat-din pur-shor saahil jaisaa manzar mujh mein thaa

غزل · Ghazal

کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے ترے تصور میں ہم نے کر لی کتاب آگے وہ بعد مدت ملا تو رونے کی آرزو میں نکل کے آنکھوں سے گر پڑے چند خواب آگے دل و نظر میں ہی اپنے خیمے لگا لئے ہیں ہمیں خبر ہے کہ راستہ ہے خراب آگے نظر کے حیرت کدے میں کب کا کھڑا ہوا ہوں اک آئنے میں کھلا ہوا ہے گلاب آگے گزرنے والا تھا رہ گزار حیات سے میں وہ ایک لمحہ کہ آ گئے پھر جناب آگے حسنؔ جو ماضی کا صفحہ الٹا تو آ گئے ہیں کھجور کے پیڑ ٹیلے اور ماہتاب آگے

kabhi jo aankhon ke aa gayaa aaftaab aage

غزل · Ghazal

خواب میں نور برسنے کا سماں ہوتا ہے آنکھ کھلتی ہے تو کمرے میں دھواں ہوتا ہے دھوپ ایسی در و دیوار پہ ٹھہری آ کر گھر پہ آسیب کے سائے کا گماں ہوتا ہے خواب میں جا کے اسے دیکھ تو آؤں لیکن اب وہ آنکھوں کے دریچوں میں کہاں ہوتا ہے دن کو ہوتی ہے جو لوگوں کے گزرنے کی جگہ شام کے بعد وہاں میرا مکاں ہوتا ہے خوف انجانا کوئی پیچھے پڑا ہے ایسے جس جگہ جاتا ہوں کم بخت وہاں ہوتا ہے یوں مرے آگے ابھر آتا ہے وہ شخص حسنؔ میرے اندر ہی کہیں جیسے نہاں ہوتا ہے

khvaab mein nuur barasne kaa samaan hotaa hai

غزل · Ghazal

جب اس کا نام لبوں پر دعا کے ساتھ اترے تو چاند آنکھ میں کوئی گھٹا کے ساتھ اترے تمہاری یاد اترتی ہے اس طرح دل میں کہ جیسے صحن میں بارش ہوا کے ساتھ اترے کبوتروں کی طرح اڑتے ہیں ترے غم بھی کہ دل کی چھت پہ تو پہلی صدا کے ساتھ اترے فراز کوہ سے آتا ہے جس طرح پانی کبھی وہ آنکھ سے ایسی ادا کے ساتھ اترے میں نیند وادی میں جب بھی حسنؔ اترنے لگا ہزار رنگ کے سپنے بھی آ کے ساتھ اترے

jab us kaa naam labon par duaa ke saath utre

غزل · Ghazal

رات یہ کون مرے خواب میں آیا ہوا تھا صبح میں وادئ شاداب میں آیا ہوا تھا اک پرندے کی طرح اڑ گیا کچھ دیر ہوئی عکس اس شخص کا تالاب میں آیا ہوا تھا میں بھی اس کے لیے بیٹھا رہا چھت پر شب بھر وہ بھی میرے لیے مہتاب میں آیا ہوا تھا سرد خطے میں سلگتا ہوا جنگل تھا بدن آگ سے نکلا تو برفاب میں آیا ہوا تھا یہ تو صد شکر خیالوں نے ترے کھینچ لیا میں تو حالات کے گرداب میں آیا ہوا تھا یاد ہیں دل کو محبت کے شب و روز حسنؔ گاؤں جیسے کوئی سیلاب میں آیا ہوا تھا

raat ye kaun mire khvaab mein aayaa huaa thaa

غزل · Ghazal

آدھا جسم سلگتا آدھا جل تھل ہے جانے کیسی دھوپ ہے کیسا بادل ہے خوابوں کا اک شہر ہے میری آنکھوں میں اور اس شہر کے چاروں جانب جنگل ہے میرے ساتھ نہیں وہ پھر بھی جانے کیوں اس کے بچھڑ جانے کا دھڑکا پل پل ہے لمحہ لمحہ دھنستا جاتا ہے منظر شاید میری آنکھ میں کوئی دلدل ہے کاش اسے ہو جائے یہ معلوم حسنؔ کوئی اس کے پیار میں کتنا پاگل ہے

aadhaa jism sulagtaa aadhaa jal-thal hai

Similar Poets