miri daastaan bhi ajiib hai vo qadam qadam mire saath thaa
jise raaz-e-dil na bataa sakaa jise daagh-e-dil na dikhaa sakaa

Hilal Fareed
Hilal Fareed
Hilal Fareed
Popular Shayari
14 totalham khud bhi hue naadim jab harf-e-duaa niklaa
samjhe the jise patthar vo shakhs khudaa niklaa
paani pe bante aks ki maanind huun magar
aankhon mein koi bhar le to miTtaa nahin huun main
us ajnabi se vaasta zarur thaa koi
vo jab kabhi milaa to bas miraa lagaa mujhe
aaj na ham se puchhiye kaisaa kamaal ho gayaa
hijr ke khauf mein rahe aur visaal ho gayaa
jaam-e-ishq pi chuke zindagi bhi ji chuke
ab 'hilaal' ghar chalo ab to shaam ho gai
baahar jo nahin thaa to koi baat nahin thi
ehsaas-e-nadaamt magar andar bhi nahin thaa
apne dukh mein ronaa-dhonaa aap hi aayaa
ghair ke dukh mein khud ko dukhaanaa ishq mein sikhaa
na hi bijliyaan na hi baarishein na hi dushmanon ki vo saazishein
bhalaa kyaa sabab hai bataa zaraa jo tu aaj bhi nahin aa sakaa
jab vaqt paDaa thaa to jo kuchh ham ne kiyaa thaa
samjhe the vahi yaar hamaaraa bhi karegaa
aaj phir dab gaiin dard ki siskiyaan
aaj phir gunjtaa qahqaha rah gayaa
pahle bhi jahaan par bichhDe the vahi manzil thi is baar magar
vo bhi be-laus nahin lauTaa ham bhi be-taab nahin aae
Ghazalغزل
رکنے کے لیے دست ستم گر بھی نہیں تھا افسوس کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں تھا باہر جو نہیں تھا تو کوئی بات نہیں تھی احساس ندامت مگر اندر بھی نہیں تھا جنت نہ مجھے دی تو میں دوزخ بھی نہ لوں گا مومن جو نہیں تھا تو میں کافر بھی نہیں تھا لوٹا جو وطن کو تو وہ رستے ہی نہیں تھے جو گھر تھا وہاں وہ تو مرا گھر بھی نہیں تھا انجام تو ظاہر تھا صفیں ٹوٹ چکی تھیں سالار معزز سر لشکر بھی نہیں تھا افسوس قبیلے پہ کھلا غیر کے ہاتھوں سردار کے پہلو میں تو خنجر بھی نہیں تھا جو بات کہی تھی وہ بہت صاف کہی تھی دل میں جو نہیں تھا وہ زباں پر بھی نہیں تھا یہ سچ ہے قصیدہ نہ ہلالؔ ایک بھی لکھا یہ سچ ہے کہ میں شاہ کا نوکر بھی نہیں تھا
rukne ke liye dast-e-sitam-gar bhi nahin thaa
کبھی تو صحن انا سے نکلے کہیں پہ دشت ملال آیا ہماری وحشت پہ کیسا کیسا عروج آیا زوال آیا عداوتیں تھیں محبتیں تھیں نہ جانے کتنی ہی حسرتیں تھیں مگر پھر ایسا ہوا کہ سب کچھ میں خود ہی دل سے نکال آیا کبھی عبادت کبھی عنایت کبھی دعائیں کبھی عطائیں کہیں پہ دست طلب بنے ہم کہیں پہ ہم تک سوال آیا گلوں کے چہرے کھلے ہوئے ہیں ہوا میں خوش بو مہک رہی ہے یہ میری آنکھوں نے خواب دیکھا کہ سیل حسن و جمال آیا تمام رنج و محن کو چھوڑیں تمہیں کو دیکھیں تمہیں کو سوچیں بڑے زمانے کے بعد دل میں یہ بھولا بسرا خیال آیا غزل سناؤں تو داد پاؤں مگر میں تم سے بھی کیا چھپاؤں تمہی نے سارے ہنر سکھائے تمہی سے رنگ ہلالؔ آیا
kabhi to sehn-e-anaa se nikle kahin pe dasht-e-malaal aayaa
تھی عجب ہی داستاں جب تمام ہو گئی اک مثال بن گئی اک پیام ہو گئی رات جب جواں ہوئی جب دیوں کے سر اٹھے تب ہوا بھی اور کچھ تیز گام ہو گئی ایک بس نظر پڑی اس کے بعد یوں ہوا میں نے جو غزل لکھی تیرے نام ہو گئی مٹ رہی تھی تشنگی بڑھ رہی تھی دوستی پھر انا کی تیغ کیوں بے نیام ہو گئی فلسفے کو چھوڑیئے کیا کہیں گے سوچیے زندگی جو آپ سے ہم کلام ہو گئی طنز تو بہت ہوئے پر عجیب بات ہے راہ جو ہماری تھی راہ عام ہو گئی کیسی عمدہ قوم تھی کیا ہی زندہ قوم تھی آخر اس کو کیا ہوا کیوں غلام ہو گئی جام عشق پی چکے زندگی بھی جی چکے اب ہلالؔ گھر چلو اب تو شام ہو گئی
thi ajab hi daastaan jab tamaam ho gai
آنکھوں میں وہ خواب نہیں بستے پہلا سا وہ حال نہیں ہوتا اب فصل بہار نہیں آتی اور رنج و ملال نہیں ہوتا اس عقل کی ماری نگری میں کبھی پانی آگ نہیں بنتا یہاں عشق بھی لوگ نہیں کرتے یہاں کوئی کمال نہیں ہوتا ہم آج بہت ہی پریشاں ہیں اس وقت کے پھیر سے حیراں ہیں ہمیں لے کے چلو کسی ایسی طرف جہاں ہجر و وصال نہیں ہوتا جتنی ہے ندامت تم کو اب اتنے ہی پشیماں ہم بھی ہیں تم اس کا جواب ہی کیوں سوچو ہم سے جو سوال نہیں ہوتا وہ بستی بھی اک بستی تھی یہ بستی بھی اک بستی ہے وہاں ٹوٹ کے دل جڑ جاتے تھے یہاں کوئی خیال نہیں ہوتا اس شہر کی ریت کو عام کریں جھک جھک کے سبھی کو سلام کریں ہر کام تو ہم کر لیتے ہیں یہی کام ہلالؔ نہیں ہوتا
aankhon mein vo khvaab nahin baste pahlaa saa vo haal nahin hotaa
ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا اس دشت سے ہو کر بھی اک سیل انا نکلا کچھ برگ شجر ٹوٹے کچھ زور ہوا نکلا الجھن کا سلجھ جانا اک خام خیالی تھی جب غور کیا ہم نے اک پیچ نیا نکلا اے فطرت صد معنی غالبؔ کی غزل ہے تو جب حسن ترا پرکھا پہلے سے سوا نکلا ہم پاس بھی جانے سے جس شخص کے ڈرتے تھے چھو کر جو اسے دیکھا مٹی کا بنا نکلا پھولوں میں ہلالؔ آؤ اب رقص خزاں دیکھیں کانٹوں کے نگر میں تو ہر باغ ہرا نکلا
ham khud bhi hue naadim jab harf-e-duaa niklaa
راستہ دیر تک سوچتا رہ گیا جانے والے کا کیوں نقش پا رہ گیا آج پھر دب گئیں درد کی سسکیاں آج پھر گونجتا قہقہہ رہ گیا اب ہوا سے شجر کر رہا ہے گلہ ایک گل شاخ پر کیوں بچا رہ گیا جھوٹ کہنے لگا سچ سے بچنے لگا حوصلے مٹ گئے تجربہ رہ گیا ہنستے گاتے ہوئے لفظ سب مٹ گئے آنسوؤں سے لکھا حاشیہ رہ گیا وقت کی دھار میں بہہ گیا سب مگر نام دیوار پر اک لکھا رہ گیا اس کے دم سے کہے شعر میں نے ہلالؔ پھول اس دھوپ میں جو کھلا رہ گیا
raasta der tak sochtaa rah gayaa





