SHAWORDS
Kausar Mazhari

Kausar Mazhari

Kausar Mazhari

Kausar Mazhari

poet
14Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

اب یہ بچے نہیں بہلاوے میں آنے والے کل بھی آئے تھے ادھر کھیل دکھانے والے ایک مدت سے خموشی کا ہے پہرہ ہر سو جانے کس اور گئے شور مچانے والے ہو کا عالم جو تھا پہلے وہ ہے قائم اب بھی گھومتے تھک گئے بستی کو جگانے والے عشق کی آگ نے جلووں کو جواں رکھا ہے لوگ باقی ہیں ابھی ناز اٹھانے والے اس کا ہر تیر نظر دل میں اتر جاتا ہے یوں تو دیکھے ہیں بہت ہم نے نشانے والے جس کو کرنا تھا یہاں کام وہ تو کر بھی گئے رت جگا کرتے رہے ڈھول بجانے والے اب تو صحرا میں سمندر کا سکوں در آیا جب سے عنقا ہوئے ہیں خاک اڑانے والے

ab ye bachche nahin bahlaave mein aane vaale

غزل · Ghazal

دشت و صحرا کی کہاں اب زندگانی چاہئے اور اگر ایسا ہے تو ہونٹوں کو پانی چاہئے سوچتا ہوں میرے دل تک کس طرح پہنچے کوئی بے نشاں گھر کے لیے کچھ تو نشانی چاہئے پتلیوں پر رقص کرنا ہی کمال فن نہیں درد کے آنسو کو تو پیہم روانی چاہئے اک سنہرا خواب میری نیند کو درکار ہے خواب کو بھی نیند ہی کی پاسبانی چاہئے رات گزری ہے حصار کرب میں اے مظہریؔ شام اب دل کے لیے کوئی سہانی چاہئے

dasht-o-sahraa ki kahaan ab zindagaani chaahiye

غزل · Ghazal

منظر چشم جو پر آب ہوا جاتا ہے چمن دل مرا شاداب ہوا جاتا ہے وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے ایک احساس تھا جو غم سے دبا رہتا تھا ساز غم کا وہی مضراب ہوا جاتا ہے اس کی پلکوں پہ جو چمکا تھا ستارہ کوئی دیکھتے دیکھتے مہتاب ہوا جاتا ہے وہ جو شیریں دہن اس شہر میں آیا ہے مرے اس کا بولا ہوا شہداب ہوا جاتا ہے مجھ کو معلوم ہے گرداب نظر کا دھوکا جو بھی احمق ہے وہ بے تاب ہوا جاتا ہے

manzar-e-chashm jo pur-aab huaa jaataa hai

غزل · Ghazal

پھر کوئی تصویر ابھری خواب میں بے قراری ہے دل بیتاب میں ساحل دریا پہ کیوں لرزاں ہو تم میں چلا ہنستا ہوا گرداب میں روشنی مل جائے باطن کو مرے کچھ اضافہ ہو جو غم کے باب میں اب کہاں اس چہرۂ زیبا کا عکس بہہ گیا جو کچھ کہ تھا سیلاب میں خواب خوش ہے دیکھ کر مہتاب کو نیند گریاں بستر کمخواب میں چاند کو دیکھے سے کوثرؔ ہنس پڑا آپ کیوں ہیں اتنے پیچ و تاب میں

phir koi tasvir ubhri khvaab mein

غزل · Ghazal

کھیلنا دل کو پڑا ہر لمحہ موج آب سے میں کہاں نکلا کبھی ہوں حیطۂ گرداب سے ہے فروغ تیرگی سے سب کے چہرے پر عتاب دست بستہ مانگتے ہیں نور سب مہتاب سے درد کیا اٹھا کہ نغمہ بن گیا احساس بھی یوں ہی کوئی چھیڑ دے باجے کو جوں مضراب سے دولت خواب پریشاں بھی نشاط انگیز ہے کھل اٹھا ہے چہرۂ غم دیکھ میرے خواب سے سوزش قلب و نظر کے واسطے کچھ تو کرو کچھ تو ٹھنڈک لے کے آؤ گلشن شاداب سے آپ کو شاید یہ اندازہ نہ ہو مجھ کو تو ہے کس قدر راحت ملی ہے حلقۂ احباب سے

khelnaa dil ko paDaa har lamha mauj-e-aab se

غزل · Ghazal

یہ جو ہر لمحہ مری سانس ہے آتی جاتی ایک طوفان ہے سینے میں اٹھاتی جاتی موجیں اٹھ اٹھ کے تہہ آب چلی جاتی ہیں ہاں مگر کس کی ہے تصویر بناتی جاتی یہ شجر جس کے سبب رقص ہے کرتا رہتا کاش وہ باد صبا دل کو نچاتی جاتی بس وہی قیمتی اک شے جو مرا حاصل تھی ہر گھڑی پاس ہی رہتی نہ یوں آتی جاتی کم سے کم سنگ سر راہ تو ہوتا کوثرؔ اور دنیا مجھے ٹھوکر بھی لگاتی جاتی

ye jo har lamha miri saans hai aati jaati

Similar Poets