SHAWORDS
Mahirul Qadri

Mahirul Qadri

Mahirul Qadri

Mahirul Qadri

poet
10Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

یوسفی گر نہیں ممکن تو زلیخائی کر ان سے پیدا کوئی تقریب شناسائی کر پہلے ہر غم کی محبت میں پذیرائی کر چاک پھر دامن تمکین و شکیبائی کر روبرو ان کے مرا حال سنانے والے اپنی جانب سے بھی کچھ حاشیہ آرائی کر نہ تمنا نہ تری یاد نہ غم ہو نہ خوشی کبھی ایسا بھی عطا عالم تنہائی کر میری قسمت میں ہیں پتھر تری قسمت میں ہیں پھول اپنی شہرت سے نہ اندازۂ رسوائی کر سب مرے حال پریشاں کا اڑاتے ہیں مذاق اے غم دوست مری حوصلہ افزائی کر

yusufi gar nahin mumkin to zulekhaai kar

غزل · Ghazal

چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے آگ پانی میں لگا کر چل دیئے ساری محفل لڑکھڑاتی رہ گئی مست آنکھوں سے پلا کر چل دیئے گرد منزل آج تک ہے بے قرار اک قیامت ہی اٹھا کر چل دیئے میری امیدوں کی دنیا ہل گئی ناز سے دامن بچا کر چل دیئے مختلف انداز سے دیکھا کئے سب کی نظریں آزما کر چل دیئے گلستاں میں آپ آئے بھی تو کیا چند کلیوں کو ہنسا کر چل دیئے وجد میں آ کر ہوائیں رہ گئیں زیر لب کچھ گنگنا کر چل دیئے وہ فضا وہ چودھویں کی چاندنی حسن کی شبنم گرا کر چل دیئے وہ تبسم وہ ادائیں وہ نگاہ سب کو دیوانہ بنا کر چل دیئے کچھ خبر ان کی بھی ہے ماہرؔ تمہیں آپ تو غزلیں سنا کر چل دیئے

chashm-e-nam par muskuraa kar chal diye

غزل · Ghazal

مانا مقام عشرت ہستی بلند ہے میں دل کو کیا کروں کہ اسے ناپسند ہے تم کو حجاب مجھ کو تماشہ پسند ہے میری نظر تمہاری نظر سے بلند ہے اللہ رے دل کی عشق میں دیوانہ واریاں اندیشۂ زیاں ہے نہ خوف گزند ہے آنکھوں میں آ چکی ہے محبت کی واردات طوفان بے پناہ پیالوں میں بند ہے اب ان کا انتخاب کرے گا یہ فیصلہ الفت بلند ہے کہ تمنا بلند ہے ماہرؔ ازل میں دل نے کیا غم کا انتخاب ان کی خطا نہیں ہے یہ دل کی پسند ہے

maanaa maqaam-e-ishrat-e-hasti buland hai

غزل · Ghazal

اب اس طرح ستم روزگار ہوتا ہے قفس کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے خدا کے واسطے دامن کا چاک سینے دو کبھی کبھی تو جنوں ہوشیار ہوتا ہے وفا کا ذکر ہی کیوں چھیڑتے ہیں اہل وفا جب ان کی خاطر نازک پہ بار ہوتا ہے وہ سامنے ہوں تو آنسو نکل ہی جاتے ہیں یہ جرم وہ ہے جو بے اختیار ہوتا ہے میں مطمئن ہوں اگرچہ خراب ہے ماحول خزاں کے بعد کا عالم بہار ہوتا ہے

ab is tarah sitam-e-rozgaar hotaa hai

غزل · Ghazal

ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ ترا کام تن کی پوجا مرا کام من کی سیوا مجھے جستجو یقیں کی تجھے فکر آب و دانہ مرے شوق مضطرب سے ہے رواں نظام ہستی جو ٹھہر گئی محبت تو ٹھہر گیا زمانہ وہ فقیہ کوئے باطن ہے عدوئے دین و ملت کسی خوف دنیوی سے جو تراش دے فسانہ ترا خار و خس پہ تکیہ مرا عشق پر بھروسہ مجھے برق سے محبت تجھے خوف آشیانہ مرے جذب دل کو ماہرؔ کوئی کیا سمجھ سکے گا مری شاعری کی حد سے ابھی دور ہے زمانہ

abhi dasht-e-karbalaa mein hai buland ye taraana

غزل · Ghazal

احساس خوشی مٹ جاتا ہے افسردہ طبیعت ہوتی ہے دل پر وہ گھڑی بھی آتی ہے جب غم کی ضرورت ہوتی ہے دو حرف بھی میرے سن نہ سکے تم اتنے کیوں بیزار ہوئے میں نے تمہیں اپنا سمجھا تھا اپنوں سے شکایت ہوتی ہے یہ سود و زیاں کے پیمانے یہ جھوٹے سچے افسانے ان اہل ہوس کی باتوں سے بدنام محبت ہوتی ہے اک دوسری بوتل آنے تک یہ درد تہہ ساغر ہی سہی اور تشنۂ مے بیتاب نہ ہو ساقی کو ندامت ہوتی ہے ماہرؔ کی سادہ باتوں سے اللہ بچاتا ہے رکھے خود تو یہ بڑے ہی حضرت ہیں اوروں کو نصیحت ہوتی ہے

ehsaas-e-khushi miT jaataa hai afsurda tabiat hoti hai

Similar Poets