zehn aise bhi na ban jaaein nisaabon vaale
guftugu mein bhi huun alfaaz kitaabon vaale

Mahtab Alam
Mahtab Alam
Mahtab Alam
Popular Shayari
14 totalik safar phir mari taqdir huaa jaataa hai
raasta paanv ki zanjir huaa jaataa hai
naaqido tum to mire fan ki parakh rahne do
apne sone ko main pital nahin hone dungaa
dil bhi toDaa to saliqe se na toDaa tum ne
bevafaai ke bhi aadaab huaa karte hain
vatan ko phunk rahe hain bahut se ahl-e-vatan
charaagh ghar ke hain sargarm ghar jalaane mein
tum zamaane ke ho hamaare sivaa
ham kisi ke nahin tumhaare hain
us ko aavaaz do mohabbat se
us ke sab naam pyaare pyaare hain
dil ko phir dard se aabaad kiyaa hai main ne
muddaton baa'd tujhe yaad kiyaa hai main ne
shar se hai khair kaa imkaan paidaa
nur-o-zulmat hue juDvaan paidaa
band kamre mein zehn kyaa badle
ghar se niklo to kuchh fazaa badle
zamin kyuun mujh se Takraati ufuq par
miraa ghar thaa mire zaati ufuq par
ye san kar meri nindein uD gai hain
koi meraa bhi sapnaa dekhtaa hai
Ghazalغزل
کیوں یاد یہ سب قحط کے اسباب نہ آئے جب ہم نے دعا کی تھی کہ سیلاب نہ آئے ہم کو تو اترنا ہے سمندر کی تہوں میں ہاتھ آئے کہ اب گوہر نایاب نہ آئے تدبیر کے محور پہ رہا میں یونہی رقصاں تعبیر کے مرکز پہ مرے خواب نہ آئے باہر جو اٹھے شور تو کھڑکی سے نہ جھانکو آنکھوں پہ تمہاری کہیں تیزاب نہ آئے اعلان کیا اڑتی ہوئی خاک نے ہر سمت منظر پہ کوئی خطۂ شاداب نہ آئے میں نے جو کہا تخم وفا ہیں مرے آنسو کہنے لگے مٹی میں انہیں داب نہ آئے نکلے ہیں سر شام لئے مشعل فن ہم نزدیک کوئی کاغذی مہتاب نہ آئے
kyuun yaad ye sab qaht ke asbaab na aae
غزل کا میری خاکہ دیکھتا ہے جو اس گل کا سراپا دیکھتا ہے پلٹ کر جب مسیحا دیکھتا ہے مرے زخموں کو ہنستا دیکھتا ہے طلسمی ہیں نئے انساں کی آنکھیں کہ گھر میں رہ کے دنیا دیکھتا ہے وہی کردار زندہ ہے جو اپنی کہانی کو ادھورا دیکھتا ہے یہ سن کر میری نیندیں اڑ گئی ہیں کوئی میرا بھی سپنا دیکھتا ہے جو اڑتے ہیں اڑیں غالبؔ کے پرزے تماشائی تماشا دیکھتا ہے سمندر بوند لگتا ہے کسی کو کوئی ذرے میں صحرا دیکھتا ہے نہ جانے کس میں ہے کتنی بصیرت نہ جانے کون کتنا دیکھتا ہے
ghazal kaa meri khaaka dekhtaa hai
دیکھا جو سایہ شب میں یہ سمجھا نگاہ نے شاید وہ آج آ گئے وعدہ نباہنے ویراں سی اس نواح میں آتا ہی کون تھا آباد کر دیا ہے اسے قتل گاہ نے ان قاتلوں پہ کون مقدمہ چلائے گا جن کو لیا پناہ میں عالم پناہ نے ہر بات پہ جو مجھ سے یہ کہتے ہیں چپ رہو کیا اپنے حسن کو بھی نہ دیں گے سراہنے قائم انہیں فقیروں کے دم سے تھی سلطنت جن کو کیا ہے ملک بدر سربراہ نے اچھا ہوا سحر نے الٹ دی نقاب فکر بھٹکا دیا تھا رات مجھے واہ واہ نے کاغذ اگر سیاہ کریں تو کریں حریف سورج اگائے ہیں مری فکر و نگاہ نے
dekhaa jo saaya shab mein ye samjhaa nigaah ne
پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی الفاظ سے خوشبو ترے کردار کی نکلی جب بات مسیحا ترے گفتار کی نکلی نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی ہونٹوں کی ہنسی بن گئے جو زخم تھے دل میں صورت کوئی جب اور نہ اظہار کی نکلی دیکھا تو یہ سمجھے کسی درویش کا گھر ہے پوچھا تو وہ کٹیا بھی زمیندار کی نکلی پھر پھول برسنے لگے لفظوں کے دہن سے پھر بات کسی کے لب و رخسار کی نکلی زنجیر کی تنگی تھی اسیران وفا تھے آواز بھی زنداں سے نہ جھنکار کی نکلی
phulon mein jhalak husn-e-rukh-e-yaar ki nikli
در تخیل کے مقفل نہیں ہونے دیتا میں تجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتا نیند آتی ہے تو آنکھوں میں جگہ دیتا ہوں اپنی پلکوں کو میں بوجھل نہیں ہونے دیتا کس کو سیراب کرے گا وہ چھلکتا بادل جو مری پیاس کو جل تھل نہیں ہونے دیتا چھین لیتا ہے مصور کے سبھی ہوش و حواس حسن تصویر مکمل نہیں ہونے دیتا کس کو افلاس نے رکھا ہے شگفتہ خاطر یہ تو بچوں کو بھی چنچل نہیں ہونے دیتا کوئی کاندھے پہ مرے ہاتھ دھرے ہے مہتابؔ یہ تخیل مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا
dar takhayyul ke muqaffal nahin hone detaa
مرحبا تم بھی ضرورت سے ملے کون ہے اب جو محبت سے ملے زندگی نے جو دئے ہم کو سبق وہ کہاں پند و نصیحت سے ملے دل ملانے سے بھلا کیا حاصل جب طبیعت نہ طبیعت سے ملے ہائے وہ شہر اماں جس میں ہم روز اک تازہ قیامت سے ملے یہ جو پلکوں پہ سجے ہیں موتی سب ہمیں اس در دولت سے ملے کون ہوگا وہ بجز آئینہ شکل جس کی تری صورت سے ملے آج پھینکی گئی ہم پر کچھ خاک آج ہم اپنی حقیقت سے ملے ہم نے سمجھا ہے انہیں پیار کے پھول زخم جو سنگ ملامت سے ملے تھے وہ عجلت میں گئے یہ کہہ کر جس کو فرصت ہو وہ فرصت سے ملے
marhabaa tum bhi zarurat se mile





