SHAWORDS
Najeeb Ahmad

Najeeb Ahmad

Najeeb Ahmad

Najeeb Ahmad

poet
15Shayari
26Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

ایک میری جاں میں اور اک لہر صحراؤں میں تھی کچھ نکیلے سنگ تھے کچھ ریت دریاؤں میں تھی کیا ہوا وہ گرم دوپہروں میں یخ ہونا مرا کیا ہوئی وہ دھوپ سی لذت کہ جو چھاؤں میں تھی کیا خبر کیا جسم تھے کیوں موج صحرا ہو گئے کیا بتائیں کس بلا کی گونج دریاؤں میں تھی شہر والے کب کے محروم بصارت ہو چکے رت جگے کی رسم تو بس آنکھ کے گاؤں میں تھی اپنے سودا کے لیے یہ عزت سنگ رسا کچھ عدو کے ہاتھ میں کچھ اپنی ریکھاؤں میں تھی اب تو جسموں میں لہو کی بوند تک باقی نہیں پھر بھی ہم کو لوٹنے کی حرص آقاؤں میں تھی تو اگر آزاد لمحوں کا پیمبر ہے نجیبؔ رات کی زنجیر کیوں پھر وقت کے پاؤں میں تھی

ek meri jaan mein aur ik lahar sahraaon mein thi

1 views

غزل · Ghazal

پیرہن اڑ جائے گا رنگ قبا رہ جائے گا پھول کے تن پر فقط عکس ہوا رہ جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا کرچیاں ہو جائیں گی آنکھیں بھی خوابوں کی طرح آئنوں میں نقش سا تصویر کا رہ جائے گا بات لب پر آ گئی تو کون روکے گا اسے اور تیرا ہاتھ ہونٹوں سے لگا رہ جائے گا سوچ لینا ان سنی باتیں سنیں گے ایک دن دیکھ لینا ہر فسانہ ان کہا رہ جائے گا اے گنہ گاروں کے دشمن اے نکو کاروں کے یار کون جانے کیا مٹے گا اور کیا رہ جائے گا ہم بچھڑ جائیں گے شاخ عمر سے گر کر نجیبؔ اک تنے پر نام دونوں کا لکھا رہ جائے گا

pairahan uD jaaegaa rang-e-qabaa rah jaaegaa

1 views

غزل · Ghazal

نشاں کسی کو ملے گا بھلا کہاں میرا کہ ایک روح تھا میں جسم تھا نشاں میرا ہر ایک سانس نیا سال بن کے آتا ہے قدم قدم ابھی باقی ہے امتحاں میرا مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا چلا گیا ترے ہم راہ خوف رسوائی کہ تو ہی راز تھا اور تو ہی راز داں میرا تجھے بھی میری طرح دھوپ چاٹ جائے گی اگر رہا نہ ترے سر پہ سائباں میرا ملال رنگ جلال و جمال ٹھہرا ہے دیار سنگ ہوا ہے دیار جاں میرا کئی نجیبؔ اسی آگ سے جنم لیں گے کہ میری راکھ سے بننا ہے آشیاں میرا

nishaan kisi ko milegaa bhalaa kahaan meraa

1 views

غزل · Ghazal

شب کے خلاف برسر پیکار کب ہوئے ہم لوگ روشنی کے طلب گار کب ہوئے خوشبو کی گھات میں ہیں شکاری ہواؤں کے جھونکے مگر کسی سے گرفتار کب ہوئے تعبیر کی رتوں نے بدن زرد کر دئے پھر بھی یہ لوگ خواب سے بیدار کب ہوئے تالے لگا لئے ہیں خود اپنی زبان پر کیا بات ہے تم اتنے سمجھ دار کب ہوئے یہ عہد اپنی روح میں عہد فراق ہے ہم مطلع سخن پہ نمودار کب ہوئے خلعت وصول کرتے ہوئے سر اٹھا لیا رسوا نجیبؔ ہم سر دربار کب ہوئے

shab ke khilaaf barsar-e-paikaar kab hue

غزل · Ghazal

اے مہ ہجر کیا کہیں کیسی تھکن سفر میں تھی روپ جو رہ گزر میں تھے دھوپ جو رہ گزر میں تھی لفظ کی شکل پر نہ جا لفظ کے رنگ بھی سمجھ ایک خبر پس خبر آج کی ہر خبر میں تھی رات فصیل شہر میں ایک شگاف کیا ملا خون کی اک لکیر سی صبح نظر نظر میں تھی میری نگاہ میں بھی خواب تیری نگاہ میں خواب ایک ہی دھن بسی ہوئی عصر رواں کے سر میں تھی شہر پہ رتجگوں سے بھی باب افق نہ کھل سکا وسعت بام و در نجیبؔ وسعت بام و در میں تھی

ai mah-e-hijr kyaa kahein kaisi thakan safar mein thi

غزل · Ghazal

شب بھلی تھی نہ دن برا تھا کوئی جیسا جی کو ترے لگا تھا کوئی اشک تھے کرچیاں تھیں آنکھیں تھیں آئنہ سے امنڈ پڑا تھا کوئی ٹوٹ کر کس نے کس کو چاہا تھا کس کا ملبہ اٹھا رہا تھا کوئی لاکھ آنچل ہوا کے ہاتھ میں تھے سر برہنہ مگر کھڑا تھا کوئی اپنے ہی سر میں ڈالنے کے لیے خاک اپنی اڑا رہا تھا کوئی اپنی مرضی سے کون قتل ہوا اپنی مرضی سے کب جیا تھا کوئی حشر برپا تھا میرے دل میں نجیبؔ کھڑکیاں کھولنے لگا تھا کوئی

shab bhali thi na din buraa thaa koi

Similar Poets