SHAWORDS
Arshad Abdul Hamid

Arshad Abdul Hamid

Arshad Abdul Hamid

Arshad Abdul Hamid

poet
19Shayari
34Ghazal

Popular Shayari

19 total

Ghazalغزل

See all 34
غزل · Ghazal

غزل میں جان پڑی گفتگو میں پھول کھلے مری نوا سے دیار نمو میں پھول کھلے مرے ہی شعر اچھالے مرے حریفوں نے مرے طفیل زبان عدو میں پھول کھلے انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے یہ کس کو یاد کیا روح کی ضرورت نے یہ کس کے نام سے میرے لہو میں پھول کھلے بہار اب کے نہ ٹھہری کسی بھی قریے میں نہ باغ خواب نہ صحرائے ہو میں پھول کھلے زمین کوفہ کو یوں ہی خراب رہنا تھا تو کس لیے یہ سنان و گلو میں پھول کھلے مرے جنوں سے پس دشت جاں غبار اٹھا مرے لہو سے در روبرو میں پھول کھلے کبھی کمند کوئی موج ڈال دے ارشدؔ کبھی ہوائے سر آب جو میں پھول کھلے

ghazal mein jaan paDi guftugu mein phuul khile

غزل · Ghazal

مجھ کو تقدیر نے یوں بے سر و آثار کیا ایک دروازہ دعا کا تھا سو دیوار کیا خواب آئندہ ترے لمس نے سرشار کیا خشک بادل تھے ہمیں تو نے گہر بار کیا دیکھنے کی تھی نگاہوں میں انا کی صورت اس گرفتار نے جب مجھ کو گرفتار کیا مدتوں گھاؤ کیے جس کے بدن پر ہم نے وقت آیا تو اسی خواب کو تلوار کیا میری چاہت نے عجب رنگ دکھایا مجھ کو کشمکش سے مری آنکھوں کو گراں بار کیا اک مسیحا کو مرا چشم نما ٹھہرایا ایک قاتل کو مرا آئینہ بردار کیا کاٹ کر پھینک دی سنسار کی کوچیں ہم نے صبر کو پھول کیا پھول کو تلوار کیا

mujh ko taqdir ne yuun be-sar-o-aasaar kiyaa

غزل · Ghazal

ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں کھینچے ہے مری جان سر دار قفس میں دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام جھانکے بھی تو کیا نرگس بیمار قفس میں اطراف ہیں طاقت کے تکبر کی سلاخیں ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں پر کاٹنے والے کو یہ معلوم نہیں ہے رکتے ہیں کہیں عزم کے پر دار قفس میں یہ پھول ہیں یہ سبزہ ہے یہ باد صبا ہے ارمان سنجو لائے ہیں گھر بار قفس میں آزادی بھی حاضر ہے تو پرواز بھی موجود خوابوں نے لگا رکھا ہے دربار قفس میں صیاد ہمیں تیری خدائی بھی تھی تسلیم ہوتا جو تصور بھی گرفتار قفس میں

har saans jo aati hai sitamgaar qafas mein

غزل · Ghazal

رکتے ہوئے قدموں کا چلن میرے لیے ہے سیارۂ حیرت کی تھکن میرے لیے ہے کوئی مرا آہو مجھے لا کر نہیں دیتا کہتے تو سبھی ہیں کہ ختن میرے لیے ہے تپ سی مجھے آ جاتی ہے آغوش میں اس کی وہ برف کے گالے سا بدن میرے لیے ہے ہیں جوئے تب و تاب پہ انوار کے پیاسے اور شام کا یہ سانولا پن میرے لیے ہے قندھار نہ کابل نہ یمن میرے لیے ہے مٹی کے اجڑنے کی چبھن میرے لیے ہے باروت میں بھنتے ہوئے الفاظ و مفاہیم اب تو یہی تصویر سخن میرے لیے ہے دنیا ہی نہیں خود سے خفا رہتا ہوں ارشدؔ جینے کا یہ انداز ہی فن میرے لیے ہے

rukte hue qadmon kaa chalan mere liye hai

غزل · Ghazal

کوئی بھی شے ہو میاں جان سے پیاری کسے ہے جان ہاری ہے تو یہ دیکھیے ہاری کسے ہے کورنش گل کو کرے کلیوں کو آداب کہے ہوش یہ مملکت باد بہاری کسے ہے دل بھی بس ایک نمونہ ہے کہ دنیا پہ مٹا نذر زیبا تھی کسے اور گزاری کسے ہے ایک کھونٹے سے بندھے دشت و دمن دیکھے ہیں اب میسر رم آہوئے تتاری کسے ہے اڑ چلو منتخب خاص ہیں اس کے ہم لوگ ورنہ حاصل یہ تمنا کی سواری کسے ہے اک ستارے کے لیے سیر فلک کرتا ہوں دوستو فرصت سیارہ شکاری کسے ہے

koi bhi shai ho miyaan jaan se pyaari kise hai

غزل · Ghazal

عشق مرہون حکایات و گماں بھی ہوگا واقعہ ہے تو کسی طور بیاں بھی ہوگا دل عطیہ کہیں کرتا تو پریشاں ہوگا خیر و خوبی سے ہی ہوگا وہ جہاں بھی ہوگا ایک دن دیکھنا رک جائیں گے دریا سارے ایک دن دیکھنا یہ دشت رواں بھی ہوگا آپ دنیا کو محبت کی دوا بیچتے ہیں آپ کے پاس علاج غم جاں بھی ہوگا ایک دن آ ہی ملیں گے مرے بچھڑے ہوئے لوگ ختم اک روز تو یہ کار جہاں بھی ہوگا دل بھی ویسا ہی ہے کیفیت جاں ہے جیسی حال بدلا تو یہی رقص کناں بھی ہوگا شدت ہجر ہے محسوس تو ہوگی ارشدؔ بوجھ سینے پہ اگر ہے تو گراں بھی ہوگا

ishq marhun-e-hikaayaat-o-gumaan bhi hogaa

Similar Poets